بین الاقوامی

Bhutanese PM Praise PM Modi: بھوٹان کے وزیراعظم کا وزیراعظم مودی کو خراجِ تحسین، کہا: ’’میرے دوست، میرے بڑے بھائی اور میرے لیڈر‘‘

 وزیراعظم نریندر مودی کے مسلسل 4,399 دن تک منصب وزارتِ عظمیٰ پر فائز رہ کر ملک کے طویل ترین مدت تک خدمات انجام دینے والے منتخب وزیراعظم بننے پر عالمی لیڈروں کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی تناظر میں بھوٹان کے وزیراعظم داشو شیرنگ ٹوبگے نے ایک خصوصی مضمون تحریر کرتے ہوئے وزیراعظم مودی کو نہ صرف ایک بڑا لیڈر بلکہ اپنا دوست، بڑا بھائی اور رہنما قرار دیا ہے۔

ٹوبگے نے اپنے مضمون میں کیا لکھا؟

دس جون 2026 کو تحریر کیے گئے اس مضمون میں ٹوبگے نے کہا کہ وزیراعظم مودی کی یہ کامیابی نہ صرف بھارت کے لیے تاریخی اہمیت رکھتی ہے بلکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے عوام کے اس اعتماد کی بھی عکاس ہے جو انہوں نے مسلسل ایک ایسے رہنما پر ظاہر کیا ہے جس نے اپنے ملک کو تبدیلی کے ایک اہم دور سے گزارا۔

بھوٹانی وزیراعظم نے یاد دلائی پہلی ملاقات

بھوٹانی وزیراعظم نے یاد دلایا کہ ان کی پہلی ملاقات نریندر مودی سے 2014 میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ وزیراعظم مودی کی حلف برداری تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ ان کے مطابق پہلی ہی ملاقات میں مودی کی گرمجوشی اور خلوص نے ان پر گہرا اثر چھوڑا۔ بعد ازاں جب وزیراعظم مودی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے بھوٹان کا انتخاب کیا تو اس سے دونوں ممالک کے خصوصی تعلقات کو مزید تقویت ملی۔ٹوبگے نے لکھا کہ وزیراعظم مودی کی شخصیت کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی سادگی، خلوص اور ہر طبقے کے لوگوں سے جڑنے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ ان کے بقول، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی قیادت کی بھاری ذمہ داریوں کے باوجود مودی ذاتی تعلقات کو ہمیشہ اہمیت دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ برسوں کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ریاستی امور، ترقیاتی منصوبوں اور سماجی چیلنجز پر تبادلۂ خیال ہوتا رہا، جس سے انہیں وزیراعظم مودی کی دور اندیشی، دانشمندی اور عوامی خدمت کے جذبے کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔

مودی صرف ایک دوست نہیں بلکہ ’بڑے بھائی‘

بھوٹان کے وزیراعظم نے کہا کہ ان کے نزدیک مودی صرف ایک دوست نہیں بلکہ ’بڑے بھائی‘ کی حیثیت رکھتے ہیں، جو مشکل وقت میں رہنمائی، حوصلہ افزائی اور تعاون فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت اور بھوٹان کے درمیان دیرینہ دوستی وزیراعظم مودی کی قیادت میں مزید مضبوط ہوئی ہے اور دونوں ممالک امن، خوشحالی اور عوامی فلاح کے مشترکہ وژن کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Indians in Germany: جرمنی میں ہندوستانیوں کی تعداد 4 لاکھ کے قریب، 70 ہزار طلبہ کر رہے ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل

جرمنی میں ہندوستانی برادری کی موجودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سستی تعلیم،…

9 hours ago

Manoj Bajpayee Raises A Question: منوج باجپائی کا سوال: جو لوگ سماج کے مسائل پر بات نہیں کرتے، انہیں اسٹار کا درجہ کیوں دیا جائے؟

ممبئی کے ’مکتی آڈیٹوریم‘ میں منعقدہ تقریب کے دوران اداکار منوج باجپائی نے فلمی ستاروں…

10 hours ago