بین الاقوامی

Bhutan Flash Flood: گلیشیائی جھیل ٹوٹنے سے بھوٹان میں تباہی! ہندوستان کے مغربی بنگال تک سیلاب کا خطرہ، 10 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل

بھوٹان میں گلیشیائی جھیل ٹوٹنے کے بعد اچانک آنے والے سیلاب نے کئی علاقوں میں تباہی مچا دی ہے۔ پوناخا میں مو چھو ندی کی سطح آب بڑھنے سے شمسی آب پاشی منصوبے کو نقصان پہنچا ہے۔ وہیں سیلابی پانی کے ساتھ بہہ کر آئے بھاری ملبے نے پوناخا-گاسا شاہراہ پر آمد و رفت بھی روک دی ہے۔ اس قدرتی آفت کے اثرات ہندوستان کے مغربی بنگال تک پہنچنے کے خدشے کے پیش نظر علی پور دوار میں بھی انتظامیہ الرٹ ہے۔ یہاں تقریباً 10 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

 بھوٹان کے پوناخا میں مو چھو ندی میں اچانک آنے والے سیلاب کے باعث دوچھوکا-جوملنگ تھانگ-ریٹسا چی ووگ میں نصب شمسی آب پاشی لفٹنگ نظام کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب کے بعد سے یہ نظام کام کرنا بند کر چکا ہے۔ ایک مقامی لیڈرکے مطابق فی الحال پورا نظام بند پڑا ہے۔ تاہم اسے کتنا نقصان پہنچا ہے، اس کا درست اندازہ ابھی نہیں لگایا گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ مقامی لوگوں کو آب پاشی کی پریشانی سے راحت دلانے کے لیے اسی سال یہ شمسی نظام نصب کیا گیا تھا۔ ایسے میں اس کے بند ہونے سے علاقے کے لوگوں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

شاہراہ پر بھاری ملبہ جمع، آمد و رفت متاثر

اچانک آنے والے سیلاب کا اثر صرف شمسی منصوبے تک محدود نہیں ہے۔ ندی کے پانی کے ساتھ بہہ کر آئے بھاری ملبے نے سڑک پر بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ جوملنگ تھانگ علاقے میں پوناخا-گاسا شاہراہ کا ایک حصہ ملبے کے باعث بند ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ سے اس راستے سے آنے جانے والے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بھوٹان سے مغربی بنگال تک سیلاب کا خطرہ

بھوٹان میں جھیل سے اچانک پانی خارج ہونے کے بعد کئی علاقوں میں سیلاب جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس کے اثرات ہندوستان کے مغربی بنگال تک پہنچنے کے خدشے کے پیش نظر علی پور دوار ضلع انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر بچاؤ مہم شروع کی ہے۔ انتظامیہ نے ضلع میں تقریباً 10 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔ ان افراد کو اسکولوں اور راحتی کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔ ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیم تعینات کی گئی ہے، جبکہ قومی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ٹیم کو بھی موقع پر روانہ کیا گیا ہے۔

اس دوران کمارگرام علاقے سے راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ یہاں اچانک سیلاب کے پانی کا اثر ختم ہونے اور تمام لوگوں کے محفوظ ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

علی پور دوار انتظامیہ کی لوگوں سے اپیل

علی پور دوار کے ایس پی امیت کمار شاہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’صورتحال پوری طرح قابو میں ہے۔‘‘

ایس پی کے مطابق ضلع انتظامیہ، پولیس، بلاک ڈیولپمنٹ افسران (بی ڈی او) اور دیگر ایجنسیاں مل کر حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بھوٹان کے حکام سے بھی مسلسل رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

اعظم خان کل جیل سے آسکتے ہیں باہر، بیٹے عبداللہ اعظم بھی ہوں گے رہا، جانئے پوری تفصیل

ذرائع کے مطابق، سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈراعظم خان اوران کے بیٹے عبداللہ اعظم ہفتہ (31…

28 minutes ago

Farewell to Dr. Shams Equbal from the staff of NCPUL: قومی اردو کونسل کے اسٹاف کی جانب سے ڈاکٹر شمس اقبال کو الوداعیہ

ڈاکٹر شمس اقبال نے کونسل کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ…

2 hours ago