ریاض: سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کی عمارت کو نشانہ بنائے جانے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں اور سفارتی روایات کے منافی ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایران کی جانب سے عمارت کو نشانہ بنا کر کیے گئے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ بیان میں اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اقدام 1949 کے جنیوا کنونشن اور 1961 کے ویانا کنونشن آن ڈپلومیٹک ریلیشنز سمیت تمام بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان معاہدوں کے تحت مسلح تنازعات کے دوران بھی سفارتی مشنز اور عملے کو خصوصی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق مملکت پہلے ہی تہران کو واضح کر چکی ہے کہ وہ ایران پر کسی بھی حملے کے لیے اپنی فضائی حدود یا سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ اس کے باوجود اس طرح کے واقعات پیش آنا تشویش ناک ہے اور اس سے خطے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کا حامی رہا ہے اور کسی بھی ایسی کارروائی کی مخالفت کرتا ہے جو حالات کو مزید بگاڑ دے۔
وزارت خارجہ نے مزید واضح کیا کہ مملکت اپنی سلامتی، علاقائی سالمیت، شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ اس میں حملے کا مناسب جواب دینے کا اختیار بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ سعودی عرب بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مفادات کا دفاع کرے گا۔ اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو ڈرون حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں عمارت کے ایک حصے میں معمولی آگ لگ گئی اور جزوی نقصان ہوا۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائیاں تین سے چار ہفتوں سے زیادہ جاری رہ سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ طویل مدتی تنازعہ کے لیے تیار ہے۔ وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی اندازے کے مطابق جنگ چار سے پانچ ہفتے چل سکتی تھی، تاہم امریکہ اس سے زیادہ عرصے تک بھی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے اور عالمی برادری کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری سفارتی کوششیں کرنا ہوں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…