بین الاقوامی

Iran Uranium Enrichment: امریکہ سے مذاکرات کے بعد عباس عراقچی کا دوٹوک اعلان، کہا-’’یورینیم افزودگی پروگرام ہرگز ترک نہیں کرے گا ایران‘‘

 

قاہرہ: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے واضح طور پر کہا ہے کہ تہران کسی بھی صورت میں اپنے یورینیم افزودگی  پروگرام سے دستبردار نہیں ہوگا۔ امریکہ کے ساتھ حالیہ بات چیت کے بعد الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ ایران کا ایک بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ عراقچی نے امید ظاہر کی کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور جلد شروع ہوگا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اعتماد کی بحالی ایک طویل اور صبر آزما عمل ہوگا۔ ان کے مطابق حالیہ ملاقات ایک اچھی شروعات ہے، مگر برسوں پر محیط کشیدگی اور بداعتمادی کو ختم کرنے میں وقت لگے گا۔

یورینیم افزودگی پر سمجھوتہ ناممکن

ایرانی وزیر خارجہ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ایران اپنے یورینیم افزودگی پروگرام کو کسی بھی صورت ترک نہیں کرے گا۔ انہوں نے اسے ایران کا قانونی، خودمختار اور ناقابلِ علیحدگی حق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران ایسے کسی بھی معاہدے کے لیے تیار ہے جو عالمی برادری کو یقین دہانی فراہم کرے، تاہم اس شرط کے ساتھ کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں اور اس کے سائنسی حقوق محفوظ رہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کی امریکی تجویز کو مسترد کرتا ہے۔ عراقچی کے مطابق، جوہری تنازع کا واحد حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

میزائل پروگرام پر بات چیت سے انکار

عراقچی نے امریکہ کی اس شرط کو بھی یکسر مسترد کر دیا جس میں ایران سے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہے اور اس پر کبھی بھی بات چیت نہیں کی جا سکتی۔ ان کے بقول، ’’ایران اپنے دفاعی معاملات پر کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کرے گا۔ ہماری میزائل صلاحیتیں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ملک کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔‘‘

عمان مذاکرات: اچھی شروعات مگر راستہ طویل

عراقچی نے انکشاف کیا کہ عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والی بات چیت اگرچہ بالواسطہ تھی، تاہم امریکی وفد کے ساتھ ہاتھ ملانے کا موقع بھی ملا۔ انہوں نے امریکی میڈیا کی ان رپورٹوں کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان مختصر براہ راست بات چیت ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات ایک مثبت آغاز ہے، لیکن حقیقی پیش رفت کے لیے مسلسل مذاکرات اور عملی اقدامات ضروری ہوں گے۔

امریکی موقف اور ٹرمپ کے بیانات

دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عمان میں ہونے والی بات چیت کو “انتہائی مثبت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی صورت امریکہ کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے۔ فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے عندیہ دیا کہ دونوں ممالک کے نمائندے اگلے ہفتے کے آغاز میں دوبارہ ملاقات کریں گے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت ان ممالک پر اضافی درآمدی ٹیکس لگایا جا سکتا ہے جو براہِ راست یا بالواسطہ ایران سے اشیا یا خدمات خریدتے ہیں۔

خطے میں کشیدگی اور فوجی تیاری

ایران کے فوجی سربراہ عبدالرحیم موسوی نے سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ میں سنگین تصادم کی صورت میں نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا آغاز نہیں کرے گا، لیکن اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔ ادھر امریکہ نے بھی حالیہ ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث علاقائی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

اسرائیل کی تشویش اور سفارتی سرگرمیاں

اسرائیل بھی ایران-امریکہ مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اس ہفتے کے آخر میں واشنگٹن جا کر صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیاں اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت کے خاتمے کو لازمی شامل کیا جانا چاہیے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نازک کوشش

مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر سمیت کئی عرب ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے عمان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسئلۂ جوہری کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔  سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی۔ مجموعی طور پر عمان میں ہونے والی بات چیت کو مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے تناؤ کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم ایران کے سخت مؤقف اور امریکہ کی پابندیوں کے باعث یہ عمل پیچیدہ اور طویل دکھائی دیتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

The Altruistic Saint of Indian Politics: ہندوستانی سیاست کے بے لوث درویش لال بہادر شاستری

لال بہادر شاستری نے اقتدار کی بلند ترین منزل پر پہنچ کر بھی عام آدمی…

15 minutes ago

Mumbai CJP Protest: ممبئی میں CJP کا بڑا احتجاج، نصیرالدین شاہ، شبانہ اعظمی اور وشال بھاردواج سمیت کئی فلمی شخصیات شریک

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور مہاراشٹر میں نافذ SIR واپس لینے کے…

15 minutes ago

100 سال بعد بھی کوئی مجھے یاد رکھے تو… ، جیسمن سینڈلس نے بتائی دل کی خواہش

یہ کنسرٹ بنگلورو میں ہوا تھا۔ مجھے پیشہ ورانہ ریکارڈنگ کے بجائے مداحوں کی جانب…

39 minutes ago