ایڈن ایلیگزینڈر، جو کہ غزہ میں آخری امریکی یرغمالی تھے، کو حماس نے رہا کر دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ایلیگزینڈر نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات سے انکار کر دیا ہے، جو کہ ان کی رہائی کے بعد ایک غیر معمولی فیصلہ ہے۔اسرائیلی وزیراعظم ایڈن سے مل کر بات کرنا چاہتے تھے اور اس کیلئے جیسے ہی ایڈن کو اطلاع کی گئی تو انہوں نے صاف انکار کردیا ،انہوں نے ناہی روایتی ملاقات یا کسی بھی قسم کے رابطے کیلئے اجازت دی بلکہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کیا۔ایلیگزینڈر، جو کہ نیو جرسی کے ٹینافلائی سے تعلق رکھتے ہیں، کو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے سرحد پار حملے کے دوران جنوبی اسرائیل میں ان کے فوجی اڈے سے اغوا کیا گیا تھا۔
ایلیگزینڈر کی رہائی مارچ میں اسرائیل کی جانب سے آٹھ ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کو توڑنے کے بعد پہلی رہائی ہے،الیگزینڈر کی طرف سے اسرائیلی وزیراعظم کو جھٹکا ملنے کے بعد نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں ایلیگزینڈر کی واپسی کو “بہت جذباتی لمحہ” قرار دیا اور اسے اسرائیل کی فوجی دباؤ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دے کر اپنی عزت بچانے کی ناکام کوشش کی۔ رہائی حماس، امریکہ، قطر اور مصر کے درمیان چار فریقی مذاکرات کے بعد عمل میں آئی۔ قطر اور مصر نے اسے ایک “مثبت اشارہ” قرار دیا جو کہ غزہ میں باقی 58 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کو بحال کر سکتا ہے۔ حماس نے کہا کہ ایلیگزینڈر کو ٹرمپ کے لیے خیر سگالی کے طور پر رہا کیا گیا، جو اس ہفتے خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ ایلیگزینڈر کو انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے 19 ماہ کی قید کے بعد محفوظ طریقے سے اسرائیلی حکام کے حوالے کیا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے کوئی جنگ بندی کا وعدہ نہیں کیا اور غزہ میں فوجی کارروائیوں کو تیز کرنے کے منصوبے جاری ہیں۔ حالانکہ رہائی کے فوراً بعد، غزہ میں لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی، جہاں اسرائیلی فضائی حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچوں سمیت خان یونس اور غزہ شہر میں اسکولوں میں پناہ لینے والے لوگ شامل ہیں۔ حماس نے الزام لگایا کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیاں باقی یرغمالیوں کی رہائی کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، جبکہ یرغمالیوں کے خاندانوں نے نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ غیر ملکی تعلقات والے یرغمالیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ایلیگزینڈر کی رہائی نے غزہ میں جاری تنازع کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنا کنٹرول بڑھایا ہے، تقریباً ایک تہائی علاقے کو “سیکیورٹی زون” کے طور پر خالی کرا لیا ہے اور امداد کے داخلے کو روک دیا ہے، جس سے دو ملین کی آبادی کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں قحط کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ دریں اثنا، نیتن یاہو پر اپنی سیاسی بقا کو جنگ ختم کرنے پر ترجیح دینے کا الزام لگایا جا رہا ہے، جیسا کہ یرغمالی متان زنگاوکر کی والدہ عیناف زنگاوکر نے کہا کہ نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دے رہے ہیں۔حالانکہ خبر یہ بھی ہے کہ اسرائیل قطر میں جمعرات کو نئے مذاکرات کے لیے وفد بھیجے گا تاکہ مزید یرغمالیوں کی رہائی کے لیے نئی تجویز پر تبادلہ خیال کیا جا سکے، لیکن نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا کہ جنگ بندی کا کوئی عہد نہیں کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
ادت راج نے کہا کہ جنگِ آزادی میں 61 ہزار مسلمانوں اور 8 ہزار سکھوں…
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ آیوروید…
عدالت عالیہ نے آلودگی کے لیے صرف پرالی جلانے کو ذمہ دار ٹھہرانے پر سوال…
اتراکھنڈ یومِ تاسیس کی تقریب میں کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے…
سوریہ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔…
وہیں گوا حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے ترون تیج پال کی…