بین الاقوامی

Donald Trump warning Cuba: اب نہ پیسہ ملے گا، نہ تیل، سب کچھ زیرو،وینزویلا اور ایران کے بعد امریکہ کی دھمکیوں کی زد میں کیوبا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا اور ایران کے بعد اب کیوبا کو بھی کھلے طور پر دھمکی دے دی ہے۔ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کیوبا یا تو واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرے یا پھر مکمل معاشی تنہائی کے لیے تیار رہے۔ ان کے اس بیان نے لاطینی امریکہ میں سیاسی اور معاشی بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسی ماہ امریکی فوجی کارروائی کے دوران وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کارروائی کا براہِ راست اثر کیوبا پر پڑا ہے، کیونکہ کیوبا کی معیشت کا سب سے بڑا سہارا وینزویلا سے ملنے والی تیل کی سپلائی تھی، جو اب تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ وینزویلا کی سبسڈی کے سہارے کیوبا کی معیشت چلانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب نہ پیسہ ملے گا اور نہ تیل، سب کچھ زیرو ہو گیا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ وقت رہتے معاہدہ کر لیا جائے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ  ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ مجوزہ معاہدے کی شرائط کیا ہوں گی۔امریکہ نے وینزویلا سے منسلک تیل بردار جہازوں کو ضبط کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ عالمی توانائی سپلائی پر اپنا کنٹرول مضبوط کیا جا سکے۔ اس اقدام کا سب سے بڑا نقصان کیوبا کو ہو رہا ہے، جہاں پہلے ہی بجلی کی شدید قلت ہے اور اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حالات مزید بگڑ کر بڑے پیمانے پر عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی پر کیوبا نے فوری اور سخت ردِعمل دیا۔ صدر میگل دیاز کانیل نے کہا کہ کیوبا ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور اسے کوئی حکم نہیں دے سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیوبا تصادم نہیں چاہتا، لیکن اگر ضرورت پڑی تو ملک اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے آخری حد تک جائے گا۔ کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے امریکی اقدام کو مجرمانہ رویہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

ہوانا اور کراکاس کے درمیان دہائیوں پرانا تیل تعاون اچانک ختم ہو گیا ہے۔ کیوبا اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً نصف حصہ وینزویلا سے پورا کرتا تھا، مگر مادورو کی گرفتاری کے بعد ایک بھی تیل کی کھیپ کیوبا نہیں پہنچی۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب کیوبا نے اعلان کیا کہ امریکی کارروائی کے دوران اس کے 32 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ موجودہ حالات کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ بعض ریپبلکن رہنماؤں نے اسے ہوانا حکومت کے زوال کی شروعات قرار دیا ہے، قابل ذکر بات یہ ہےکہ  کئی ماہرین اس رائے سے متفق نہیں۔ ان کے مطابق کیوبا طویل عرصے سے پابندیوں اور بحرانوں کے باوجود قائم رہا ہے، لیکن اس وقت ملک شدید بحران اور غیر یقینی کے نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

4 minutes ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

37 minutes ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

1 hour ago