بین الاقوامی

Afghanistan-Pakistan Tensions: ’’ہم نہ ڈرتے ہیں اور نہ ہارے ہیں…‘‘، پاکستان کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان افغان وزیر کا سخت پیغام

کابل: افغانستان کے وزیر اطلاعات و ثقافت شیر احمد حقانی نے بدھ کے روز کہا کہ افغان عوام نہ باہری دباؤ یا فوجی حملوں سے ڈرنے والے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اس سے پہلے بھی ایسے مخالفین کو شکست دے چکا ہے، جن کے پاس زیادہ جدید ہتھیار اور ٹیکنالوجی موجود تھی۔

افغانستان کو دھمکیوں سے ڈرایا نہیں کیا جا سکتا

افغانستان کے خبر رساں ادارے آریانا نیوز کے مطابق، صحافیوں کی فکری، نظریاتی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شیر احمد حقانی نے کہا کہ افغانستان کئی دہائیوں سے جنگ اور تنازعات کا سامنا کرتا آیا ہے، اس لیے اسے دھمکیوں سے ڈرایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے بے رحمی سے بمباری کر کے ہمارے بچوں کو نیند میں مار ڈالا، ہم انہیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم بم دھماکوں اور مشکلات سے نہیں ڈرتے۔ ہم نے ان قوتوں کو بھی شکست دی ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور اسلحے کے اعتبار سے آپ سے کہیں زیادہ طاقتور تھیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل چیلنجوں کے باوجود افغان عوام اپنے عزم پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نہ ڈرتے ہیں اور نہ ہی ہارے ہیں۔‘‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی

افغان وزیر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند ماہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کی سرحد پر متعدد مرتبہ فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں عام شہریوں کے جانی نقصان پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

افغان وزارت دفاع کا فضائی حملوں کا دعویٰ

اس سے قبل افغانستان کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ افغان فضائیہ نے پاکستان میں مبینہ طور پر دولتِ اسلامیہ (داعش) سے وابستہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ وزارت کے بیان کے مطابق یہ حملے منگل کی شب پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ان مقامات پر کیے گئے، جنہیں وزارت نے داعش سے وابستہ مراکز قرار دیا۔

وزارت دفاع نے کہا کہ افغان فضائیہ نے بلوچستان کے ضلع پشین کے سرانان علاقے میں داعش کے ایک مشترکہ مرکز اور مبینہ طور پر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق اس مرکز کو افغانستان میں تخریب کاری اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور یہی مرکز افغان شہریوں کو نشانہ بنانے والے بم دھماکوں کی مبینہ منصوبہ بندی کا بھی مرکز تھا۔

خیبر پختونخوا میں بھی کارروائی کا دعویٰ

وزارت نے مزید دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے کمبر خیل علاقے میں افغان فضائیہ نے داعش کے ایک مرکز پر فضائی حملہ کیا، جبکہ چترال کی شاہ سلیم وادی کے گرم چشمہ علاقے میں داعش کے ایک اور مشترکہ مرکز اور مبینہ شدت پسند عناصر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ وزارت دفاع کے مطابق ابتدائی اطلاعات کی بنیاد پر ان حملوں میں داعش اور اس کے حامیوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور بڑی تعداد میں افراد مارے گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

37 minutes ago

Asian Games 2026: بھارتی خواتین کبڈی ٹیم کی شاندار کارکردگی جاری، ایران کو 37-23 سے شکست

بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…

3 hours ago