پولینڈ کے تاریخی اور محفوظ ترین شہروں میں شمار ہونے والے جنوبی شہر کراکوف کے مرکزی بازار میں ہفتہ کی دوپہر ہوئی اندھا دھند فائرنگ کے واقعے نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا۔ خبر کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی نظریات سے متاثر 24 سالہ مسلح حملہ آور نے کار میں سوار ہوکر بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں اے آر-15 رائفل سے فائرنگ کی۔ اس حملے میں 6 افراد، جن میں چار خواتین اور دو مرد شامل ہیں، موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ 15 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔ بعد ازاں حملہ آور کے گھر سے اس کے تین رشتہ داروں کی لاشیں بھی برآمد ہوئیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک نے اس واقعے کو واضح طور پر ’دہشت گردانہ حملہ‘ قرار دیا ہے۔
پولیس نے تین منٹ میں حملہ آور کو گھیر لیا
یہ واقعہ ہفتہ کی دوپہر مقامی وقت کے مطابق تقریباً 3 بجے پیش آیا، جب سیاحوں اور مقامی لوگوں سے بھرے تاریخی ’مین مارکیٹ اسکوائر‘ میں اچانک ایک سیاہ رنگ کی سبارو کار داخل ہوئی۔ فوجی طرز کے کپڑے پہنے مشتبہ حملہ آور کی شناخت 24 سالہ پولش شہری میخائل او کے طور پر کی گئی ہے۔ اس نے کار کی کھڑکی سے پیدل چلنے والوں اور قریب سے گزرنے والی ٹرام پر گولیاں برسانا شروع کردیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کی اور محض تین منٹ کے اندر حملہ آور کو گھیر لیا۔ تقریباً ایک کلومیٹر تک تعاقب کے بعد پولیس اور حملہ آور کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں پولیس اہلکاروں نے اسے گولی مار کر زخمی کردیا اور حراست میں لے لیا۔ اس کارروائی کے دوران دو پولیس افسران بھی زخمی ہوئے۔
حملہ آور کے گھر سے والدین اور بہن کی لاشیں ملیں
کراکوف میں فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کے دوران پولیس اور سکیورٹی ایجنسیاں جب شہر سے تقریباً 200 کلومیٹر دور اوسٹروویک شفیئتوکرژسکی میں مشتبہ حملہ آور کے گھر پہنچیں تو وہاں تین افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ان میں دو خواتین اور ایک مرد شامل تھے۔ وزیراعظم ڈونالڈ ٹسک نے ہنگامی اجلاس میں تصدیق کی کہ تینوں لاشیں حملہ آور کے قریبی رشتہ داروں، یعنی اس کے والدین اور بہن کی ہیں۔ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس نے کراکوف میں قتل عام کرنے سے پہلے اپنے ہی خاندان کے افراد کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ پولینڈ کے وزیر داخلہ مارسن کیروِنسکی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور انتہائی دائیں بازو اور انتہا پسندانہ نظریات سے بری طرح متاثر تھا۔ کراکوف کے مرکزی بازار میں ہلاک ہونے والے چھ افراد میں ایک برطانوی شہری بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ آسٹریا، جرمنی، پرتگال، روس اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے پانچ سے زائد غیر ملکی سیاح بھی فائرنگ میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔
صدر نے دو روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا
پولینڈ کے صدر کارول ناوروٹسکی نے اس بھیانک سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے 8 اور 9 نومبر کو دو روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس اور دنیا کے کئی دیگر رہنماؤں نے بھی اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پولینڈ میں اسلحے سے متعلق جرائم کی شرح عام طور پر کم ہے، ایسے میں اس نوعیت کے بھیانک حملے نے ملک کے سکیورٹی نظام اور آن لائن پھیلنے والے انتہا پسندانہ نظریات کے حوالے سے کئی اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سی آر پی ایف بستر کے علاقے میں نکسل ازم کے خاتمے کی کارروائیوں میں…
مرکزی وزیر داخلہ اور امدادِ باہمی کے وزیر امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم…
محسن رضائی نے اپنی پوسٹ کے آخر میں امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’اگر…
وزیر اعظم نے مزید لکھا کہ انہوں نے اڈوانی کے سفر کو یاد کیا ہے،…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں…
وزیر اعظم نے کہا کہ روشنیوں کا یہ تہوار پورے ملک کو روشن کر دیتا…