بین الاقوامی

موغادیشو ہوٹل میں 20 گھنٹے سے جاری تصادم ختم، 15 ہلاک

موغادیشو، 29 نومبر (بھارت ایکسپریس): صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ایک ہوٹل کا 20 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والا فوج کا محاصرہ ختم ہو گیا ہے۔ اس دوران 6 حملہ آوروں سمیت کم از کم 15 افراد مارے گئے۔ یہ اطلاع صومالیہ کی سکیورٹی فورسز نے دی ہے۔ صومالی پولیس فورس کے ترجمان صادق دودیش نے پیر کو بتایا کہ الشباب کے پانچ حملہ آوروں کو گولی مار دی گئی، ایک نے اتوار کی رات آٹھ بجے موغادیشو میں ولا روزا ہوٹل پر حملہ کرنے کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

شنہوا نیوز ایجنسی کی ایک  رپورٹ کے مطابق، دودیشے نے کہا، “اس حملے میں آٹھ شہری اور ایک فوجی ہلاک اور پانچ زخمی ہوئےہیں۔” انہوں نے موغادیشو میں ایک ٹیلی ویژن نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہوٹل سے ساٹھ افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔

پولیس نے کہا کہ سخت حفاظتی انتظامات والا ہوٹل اعلیٰ سرکاری افسران کے لئے ایک مقبول مقام ہے۔ حملے کے وقت تین وزراء ہوٹل کے اندر موجود تھے۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ انتہا پسند راشٹرپتی بھون کے قریب واقع ہائی سیکیورٹی ہوٹل میں کیسے داخل ہوئے لیکن عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے داخل ہونے سے قبل انہوں نے ہوٹل کے گیٹ پر گولیوں کی آوازیں سنی تھیں۔

الشباب، جس نے بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ حکومت کو گرانے کے لئے تقریباً دو دہائیوں سے شورش برپا کر رکھی ہے، نے تازہ ترین حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس کے جنگجو ہوٹل کے اندر افسران کے اجتماع کو نشانہ بنا رہے تھے۔ مئی میں نئی ​​حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد الشباب کا ہوٹل پر یہ تیسرا حملہ ہے۔

اگست میں، عسکریت پسندوں نے حیات ہوٹل کے 30 گھنٹے کے محاصرے میں 21 افراد کو ہلاک کر دیا تھا، اور اکتوبر میں جنوبی شہر کسمایو میں توکل ہوٹل پر حملہ کر کے 11 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ الشباب شدت پسند گروپ کو 2011 میں موغادیشو سے نکال باہر کیا گیا تھا، لیکن وہ اب بھی حملے کرنے، سرکاری تنصیبات، ہوٹلوں، ریستورانوں اور عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Bharat Express

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

9 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

10 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

11 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

12 hours ago