انٹرٹینمنٹ

Sulochana Latkar story: رنگو دیوان سے سلوچنا تک کا سفر، جانیے ہندی سنیما کی کیسے بنیں یادگار ’ماں‘

ہندی اور مراٹھی سنیما کی لیجنڈری اداکارہ سلوچنا لاٹکر کا نام آتے ہی ناظرین کے ذہن میں ایک محبت بھری، شفیق ماں کی تصویر ابھر آتی ہے۔ انہوں نے امیتابھ بچن، دھرمیندر، راجیش کھنہ، دلیپ کمار، دیو آنند اور سنیل دت جیسے عظیم اداکاروں کی ماں کا کردار ادا کرکے پردۂ سیمیں پر ایسی لازوال چھاپ چھوڑی کہ یہی کردار ان کی پہچان بن گیا۔ تاہم بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ سلوچنا ان کا پیدائشی نام نہیں تھا۔ فلمی دنیا میں آنے سے پہلے وہ رنگو دیوان کے نام سے جانی جاتی تھیں۔

مشکلات کے درمیان اداکاری کا آغاز

30 جولائی 1928 کو کرناٹک کے ضلع بیلگاوی میں پیدا ہونے والی رنگو شنکر راؤ دیوان کا بچپن انتہائی مشکلات میں گزرا۔ کم عمری میں ہی والدین کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد ان کی پرورش ان کی خالہ نے کی۔ معاشی تنگی کے باعث وہ صرف چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کر سکیں، لیکن فلموں سے ان کی دلچسپی بچپن ہی سے تھی۔ یہی شوق انہیں کولہاپور کے فلمی اسٹوڈیوز تک لے آیا، جہاں انہوں نے ماسٹر ونائک کی پرفل پکچرز اور بعد میں جے پربھا اسٹوڈیو میں کام شروع کیا۔ اپنے ابتدائی دور میں انہوں نے ‘مہارتھی کرن’ اور ‘والمیکی’ جیسی فلموں میں مختصر کردار ادا کیے۔

ایک نام نے بدل دی قسمت

سال 1949 میں مراٹھی فلم ‘ساسرواس’ کی شوٹنگ کے دوران معروف ہدایت کار بھالجی پینڈھارکر نے رنگو دیوان کا نام بدل کر سلوچنا رکھ دیا۔ یہی نام بعد میں بھارتی سنیما میں ان کی مستقل شناخت بن گیا۔ اس کے بعد انہوں نے مراٹھی فلموں میں بطور ہیروئن شاندار کامیابی حاصل کی۔ ‘میتھ بھاکر’، ‘واہنینچیا بانگڑیا’، ‘دھاکٹی جاؤ’ اور ‘سانگتے آئیکا’ جیسی فلموں نے انہیں مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ بعد ازاں انہوں نے ہندی سنیما کا رخ کیا اور ماں کے کرداروں میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔

پردے کی ماں، حقیقی زندگی میں بھی محبت کا رشتہ

سلوچنا لاٹکر نے ‘دل دے کر دیکھو’، ‘بندنی’، ‘دیور’، ‘جانی میرا نام’، ‘کٹی پتنگ’، ‘مقدر کا سکندر’، ‘مجبور’ اور ‘آزاد’ سمیت متعدد یادگار فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کے نبھائے ہوئے ماں کے کردار آج بھی بھارتی سنیما کی مؤثر ترین اداکاری میں شمار کیے جاتے ہیں۔ امیتابھ بچن کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر سلوچنا لاٹکر نے انہیں اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خط بھیجا تھا، جس میں انہوں نے امیتابھ کو “بیٹا” کہہ کر مخاطب کیا۔ اس خط کو ان کے اور فلمی دنیا کے فنکاروں کے درمیان قائم گہرے جذباتی اور خاندانی رشتے کی خوبصورت مثال سمجھا جاتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Narendra Modi: جیور ایئرپورٹ کا نام اب وزیر اعظم نریندر مودی کے نام پر ہوگا، یوگی آدتیہ ناتھ کا اعلان

اتر پردیش کابینہ نے ’نریندر مودی انٹرنیشنل ایئرپورٹ‘ نام رکھنے کی تجویز منظور کرلی، وزیر…

3 hours ago

School Bus Accident: نیپال کے پوکھرا کے قریب سڑک سے پھسل کر کھائی میں گری اسکول بس، حادثے میں 5 کی موت

بس کالیکا انگلش بورڈنگ اسکول کی تھی۔کاسکی ضلع پولیس دفتر کے سربراہ پولیس سپرنٹنڈنٹ نوین…

5 hours ago